کاروار:2؍ڈسمبر (ایس او نیوز) قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئےاگر نابالغ لڑکی یا نابالغ لڑکے کی شادی رچائی جاتی ہے تو صرف سرپرست ہی خاطی قرار نہیں دئیے جائیں گے بلکہ شادی میں شریک مہمانان، شادی کی رسم اداکرنے والے مُلاّ یا پنڈت، یہاں تک کہ شادی کا کارڈ چھاپنے والے پرنٹرس بھی خاطیوں کی فہرست میں شمار کئے جائیں گے۔اس بات کی اطلاع ضلع اُتر کنڑا کے ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول نے دی۔ انہوں نے بتایا کہ بچہ شادی ممنوع قانون میں کی گئی نئی ترمیمات میں اب ان سب کو شامل کیا گیا ہے۔ ایس ایس نکول کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اگر کسی بھی دھرم اور مذہب والے نابالغ بچوں کی شادی کرتے ہیں تو ان سب کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ڈی سی نےبتایاکہ صرف سرپرست ، پنڈت/مُلا، شادی میں شریک مہمان ، شادی کارڈ پرنٹ کرنے والوں پر ہی نہیں اس دیہات کے ولیج اکاؤنٹنٹ، دیہی پنچایت پی ڈی اؤ اور آنگن واڑی کارکنان کو بھی قانون کی خلاف ورزی کے لئے اکسائے جانے والوں میں شمار کیا جائے گا۔بچہ شادی کو لےکر ضلع کے تمام اشاعتی اداروں ، مختلف دھرموں کے پنڈتوں اور مُلاوں کو تربیت اور جانکاری دی گئی ہے اور اس تعلق سے بیداری مہم بھی چلائی جارہی ہے۔
ضلع جائزہ میٹنگ کے بعد ڈی سی نے اس سلسلے میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اب بچہ شادی ممنوع قانون بہت زیادہ سخت ہوگیا ہے۔ گزشتہ برس چار بچوں کی شادیوں کو روکا گیا تھا۔ رواں سال 5بچوں کی شادیوں کو روکا گیا ہے۔ میٹنگ میں ضلع پنچایت ایگزکیٹیو آفیسر محمد روشن، ڈی وائی ایس پی گوپال کرشنا ٹی نائک، محکمہ خواتین و اطفال کے افسر راجیندر بیکل سمیت کئی لوگ موجود تھے۔
خیال رہے کہ 18 سال سے کم عمر کو نابالغ مانا جاتا ہے اور 18 سال مکمل ہونے سے پہلے شادی کرنا قانوناً جرم ہے۔